کمپلائنس رسک مینجمنٹ (سی آر ایم)
تمہیددیباچہ
ایف بی آر نےملکی محصولات بڑھانے کے لیے "کمپلائنس رسک مینجمنٹ (CRM)" ڈائریکٹوریٹ کے قیام کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ CRM ڈائریکٹوریٹ جنرل کے قیام کے لیے درکار قانونی ضرورت کو "فنانس ایکٹ، 2021" کے تحت پورا کیا گیا، جس میں انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 230I کے ذریعے ترمیم متعارف کرائی گئی۔ اس کے مطابق، ایف بی آر نے 7 نومبر 2022 کو ان لینڈ ریونیو سروس میں "کمپلائنس رسک مینجمنٹ ڈائریکٹوریٹ" قائم کیا تاکہ عدم تعمیل کے خدشات کی شناخت، جانچ اور ترجیحی درجہ بندی کا باقاعدہ عمل شروع کیا جا سکے۔
CRM خطرے کے نظم و نسق (Risk Management) پر مبنی ایک منظم طریقہ کار ہے، جسے OECD جیسی بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ مختلف ڈیٹا ذرائع کی بنیاد پر ٹیکس تعمیل کےحوالے سے خطرات کی شناخت، جانچ، درجہ بندی اور تدارک کا طریقہ ہے، جو ٹیکس قوانین کی بہتر پابندی اور فیصلہ سازی میں بہتری لاتا ہے۔
CRM رضاکارانہ ٹیکس تعمیل کو فروغ دیتا ہے۔ یہ ٹیکس دہندگان کی درجہ بندی، ہدفی آڈٹ، اور مہمات کے ذریعے ریونیو میں اضافہ کرتا ہے۔ اس میں ایسے رویوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جاتی ہے جو عدم تعمیل کا باعث بنتے ہیں، جبکہ ٹیکس دہندگان کی آراء کے لیے مؤثر فیڈبیک نظام بھی شامل ہوتا ہے۔ CRM مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) کے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے نان فائلنگ، انڈر فائلنگ اور ٹیکس چوری جیسے مسائل کو حل کرتا ہے۔
فریم ورک
تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی (OECD) کے مطابق، CRM کا عمل ایک وسیع فریم ورک میں ہوتا ہے جس میں بنیادی عناصر، نتائج اور دیگر ضروریات شامل ہوتی ہیں جو CRM کو مؤثر بنانے کے لیے درکار ہوتی ہیں۔
روایتی ٹیکس آڈٹ کے ساتھ فرق
CRM (کمپلائنس رسک مینجمنٹ) اور روایتی ٹیکس آڈٹ کے درمیان کئی کلیدی پہلوؤں میں فرق موجود ہے:
طریقہ کار
CRM ایک فعال طریقہ ہے جو رویوں کے تجزیے کے ذریعے تعمیل کے خدشات کو حل کرتا ہے، جبکہ روایتی آڈٹ ایک ردعمل پر مبنی عمل ہے جو فائلنگ کے بعد مخصوص ٹیکس دہندہ کے ریکارڈز پر توجہ دیتا ہے۔
دائرہ کار
CRM میں خدشات کی جانچ، درجہ بندی، آگاہی اور رسائی شامل ہوتی ہے تاکہ مجموعی طور پر تعمیل میں بہتری لائی جا سکے، جبکہ روایتی آڈٹ صرف مالیاتی ریکارڈ کی درستگی کی جانچ کرتا ہے۔
ڈیٹا کا استعمال
CRM میں ڈیٹا اینالیٹکس اور تھرڈ پارٹی معلومات کا استعمال ہوتا ہے تاکہ تعمیل کی کوششوں کو ترجیح دی جا سکے، جبکہ روایتی آڈٹ زیادہ تر ٹیکس دہندہ کی فراہم کردہ دستاویزات پر انحصار کرتا ہے اور اس میں تجزیاتی گہرائی کم ہوتی ہے۔
نتائج پر توجہ
CRM رضاکارانہ تعمیل، ٹیکس گیپ میں کمی اور اعتماد سازی کو فروغ دیتا ہے، جبکہ روایتی آڈٹ عدم تعمیل کی نشاندہی، سزاؤں اور واجب الادا ٹیکس کی وصولی پر مرکوز ہوتا ہے۔
ثقافتی تبدیلی
CRM ٹیکس حکام میں باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے، جبکہ روایتی آڈٹ اکثر ایک سخت اور محاذ آرائی پر مبنی ماحول پیدا کرتا ہے۔
CRM میں ڈیٹا اور اینالیٹکس کا کردار
ڈیٹا اور انیلیٹکس CRM کی اثر انگیزی بڑھاتے ہیں۔ اس کے نمایاں پہلو یہ ہیں :
خدشات کی نشاندہی
جدید CRM سسٹمز بڑے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کرتے ہیں، ٹیکس دہندگان کے مختلف طبقات میں خدشات کے مجموعہ کی شناخت کرتے ہیں، اور ان خدشات کو ترجیح دیتے ہیں جو ٹیکس گیپ کا باعث بنتے ہیں۔
تھرڈ پارٹی ڈیٹا
بیرونی معلومات تک رسائی خدشات کی مؤثر نشاندہی اور عدم تعمیل کے معاملات سامنے لا کر محصولات میں اضافہ کرتی ہے۔
ہدف پر مرتکز مہمات
ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے کم تعمیل والے شعبوں میں مخصوص اہداف پر مبنی اقدامات کیے جاتے ہیں، جو ٹیکس نظام پر اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں۔
خودکاری (Automation)
ڈیٹا شیئرنگ کی کمپیوٹر پر مبنی سہولیات CRM کو مؤثر بناتی ہیں، پراسسز کو سہل بنایا جاتا ہے اور تعمیل سے متعلق خدشات کا منظم انداز میں بندوبست کیا جاتا ہے۔

