Placeholder image

ایف بی آر کی تنظیمی کارکردگی کے نمایاں اشاریئے

ایف بی آر کی تنظیمی کارکردگی کے نمایاں اشاریئے

تنظیمی  کارکردگی  کے نمایاں اشاریئے۔ I: محصولات کے اہداف  کا حصول 
 
(1) تفویض کردہ ہدف کے مقابلہ میں حاصل کردہ ہدف کی شرح 
 
(2) ٹیکس کی اقسام  کے لحاظ سے  محصولات کی وصولیوں کی تفصیل 
 
(a) انکم ٹیکس
 
(b) سیلز ٹیکس
 
(c) فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی
 
(d) کسٹم ڈیوٹی
 
(e) دیگر ( ورکرز ویلفیئر فنڈ، کپیٹل ویلیو ٹیکس وغیرہ)
 
(3) انکم ٹیکس کی اقسام   کے لحاظ سے محصولات کی وصولیوں کی تفصیل        
 
(a) کمپنیوں سے  ٹیکس کی وصولی
 
(b) افراد کی انجمنوں/  AOPsسے ٹیکس کی وصولی
 
(c )   افراد  اور تجارتی اداروں سے وصولی
 
(4) ٹیکس دفتر کے لحاظ  سے ٹیکس کی وصولیوں کی تفصیل
 
(5) رجسٹر ہونے والےنئے ٹیکس دہندگان کی تعداد
 
(a)ٹیکس دفتر کے  لحاظ  سے
 
(b)  فیصد اضافہ
 
(c )  کل آبادی کی  فیصدی حصہ 
 
(6)  ٹیکس کے ذرائع   کے  لحاظ  سے فعال ٹیکس دہندگان کی تعداد
 
(a) انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان 
 
(b) سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان
 
تنظیمی   کارکردگی کے نمایاں اشاریئے۔ 2                     آٹو میشن کے درجات  
 
(1) مکمل طور پر  آٹو میٹڈ پراسسز / (Automated Processes)خود کار طریقوں کافیصدی حصہ 
 
(2) ایسے(Processes) پراسسز / طریقوں  کا  فیصدی حصہ  جنہیں زیادہ موثر بنانے کے لئے ازسرنو ڈیزائن کیاگیا ہے۔
 
(3) Information Technology انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اُن سسٹمز /  Systems   کی تعداد جنہیں تیار  ،  مکمل  اور فعال کیا گیا ۔
 
(4) متعارف کرائی گئی آن لائن سہولیات کی تعداد   مثلاً موبائل ایپلیکیشنز 
 
بندرگاہوں پر جہازوں کے لنگر انداز  رہنے  کا دورانیہ  کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تعداد۔
 
تنظیمی  کارکردگی  کے نمایاں اشاریئے۔  3 ٹیکس دہندگان کے لئے سہولیات 
 
(1) آن لائن ، ٹیلی فون اور ٹیکس دفاتر سے رابطہ کرنے  پر مطمئن ہونے والے  ٹیکس دہندگان کا تناسب  
 
(2) ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے وقت میں کمی کی شرح  
 
(3) ایف بی آر کے تیار کردہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نظام کے ذریعے پراسس کئے گئے  ریفنڈز کلیمزکی شرح   ۔
 
(4) ٹیکس ادائیگی کے اشاریئے   میں بہتری کی شرح  ۔
 
(5) انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس  کے  ریفنڈ   کے  عمل  کے لیے درکار اوسط وقت میں کمی  کی شرح  ۔
 
(6) سرحد پار تجارت کے فروغ   کے لیے   سامان کی موقع پر معائنہ/  فزیکل انسپکشن میں کمی  کی شرح  ۔
 
(7) پوسٹ کلیئرنس آڈٹ/ Post Clearance Audit میں اضافے  کی شرح  ۔
 
(8) تجارت میں   آسانی لانے کی غرض سے    رسک مینجمنٹ سسٹم  کو  موثر بنانے   کے لیے  آٹو میٹڈ (Automated) خودکار کئے گئے(Processes)   پراسسز کی تعداد۔
 
(9) مالی سال کے دوران آڈٹ ونگ کی جانب سے  ٹیکس دہندگان کی نمٹائی گئی درخواستوں  کی تعداد۔
 
تنظیمی کارکردگی کے نمایاں اشاریئے۔  4 :      ایف بی آر کا محصولات جمع کرنے والے دیگر اداروں اور محکموں کے ساتھ اشتراک کار 
 
1. ملک بھر میں محصولات کے صوبائی اداروں  اور دیگر    سرکاری  محکموں کے ساتھ قائم کیے گئے  فعال ڈیٹا روابط کی تعداد۔
 
2.   دیگر اداروں  کے ساتھ منسلک  کیے گئے پراسسز (Processes) کی تعداد۔
 
3. تھرڈ پارٹی ڈیٹا بیسز کو ان لینڈ ریونیو سروس کے  نظام کے ساتھ منسلک کرنا  تاکہ ڈیٹا کا خودکار تبادلہ ممکن ہو سکے۔
 
4. ہر  علاقے /صوبے میں  پوائنٹ آف سیل      سسٹم کی  ان لینڈ ریونیو سروس سے منسلک  ہونے  کی  شرح  ۔ 
 
5. مخصوص درآمدات اور مقامی پیداوار کا ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں  حصہ
 
  تنظیمی کارکردگی کے نمایاں اشاریئے۔                   5    محصولات کے قوانین  کو آسان بنانا  
 
(1) مالی سال کے دوران    کم کئے جانے والےود ہولڈنگ  ٹیکسوں کی تعداد
 
(2)   مالی سال کے دوران ٹیرف    (Tariff)   کی شرح میں ردوبدل  اور  بہتری 
 
تنظیمی کارکردگی کے نمایاں اعشاریئے۔                   6                 ایف بی آر کی جانب سے رسک بیسڈ آڈٹ
 
1. ایف بی آر کی جانب سے قرعہ اندازی کی بنیاد پر  منتخب کیے گئے کیسز کی تعداد
 
2. مالی سال کے دوران نشان دہی کئے  گئے خدشات (Risk Factors)   کی بنیاد پرمکمل کیے گئے آڈٹس  کی شرح   
 
3. آڈٹ کیسز کے حوالے سے ماہانہ کارکردگی کی  رپورٹس کا جائزہ
 
a ۔انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کی دفعہ 214C کے تحت
 
b. سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 کی دفعہ 72B کے تحت
 
c. فیڈرل ایکسائز ایکٹ، 2005 کی دفعہ 42B کے تحت
 
تنظیمی کارکردگی کے نمایاں اشاریئے۔                   7 ۔ قومی ٹیکس / کسٹمز پالیسی کی تشکیل
 
1. کسٹمز / ان لینڈ ریونیو سے متعلق قوانین، قواعد، طریقہ کار اور متعلقہ قوانین پر   مشتمل  سالانہ بجٹ تجاویز کا نفاذ اور ان پر کامیاب عمل درآمد
 
2. سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے   دیگر  ممالک کے ساتھ کیے گئے ٹیکس معاہدوں کی تعداد
 
تنظیمی  کارکردگی  کے نمایاں اشاریئے 8: ایف بی آر کی  افرادی قوت کی ترقی /  ہیومن ریسورس ڈیو یلپمنٹ اور عوام تک  رسائی 
 
1.مالی سال کے دوران  ملک بھر میں مکمل کئے گئے منصوبوں  کی تعداد
 
 2.مالی سال کے دوران  تربیت کے لیے بیرونِ ملک بھیجے گئے افسران کی تعداد
 
3.سال کے دوران انضباطی قواعد (E&D Rules, 1973) کے تحت کی گئی تادیبی کارروائیوں  کی تعداد 
 
4.انعامی قواعد کے تحت   پراسس کئے گئے  انعامات  کے کیسز   کی تعداد
 
5 .ٹیکس دہندگان کی سہولت اور آسانی  کے لیے چلائی   گئی میڈیا مہمات کی تعداد
 
6 .سال کے دوران  ٹیکس دہندگان کی  کتنی شکایات کا ازالہ کیا گیا ۔
 
تنظیمی  کارکردگی  کے نمایاں اشاریئے۔9   : مختلف لیگل  فورمز پر ایف بی آر کی نمائندگی
 
1۔   سپریم کورٹ ، ہائی کورٹس یا وفاقی ٹیکس محتسب کی عدالتوں میں  زیر سماعت  مقدما ت میں  ایف بی آر (ہیڈکوارٹر) کی بطور واحد فریق نمائندگی  
 
2۔ ایک متعین  طریقۂ  کار/ ایس او پی  کی بنیاد پر    ہر پینل ایڈووکیٹ اور اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی  انفرادی کارکردگی کا  سالانہ جائزہ
 
تنظیمی  کارکردگی کے نمایاں اشاریئے 10: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی  کی ہدایات پر عمل درآمد
 
1. آڈٹ اعتراضات  کےحل کے لئے    ورکنگ پیپر کی تیاری اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی  میں بروقت جمع کروانا
 
2. مطلوبہ اقدامات کی تکمیل کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی  کی ہدایات کو ملک بھر کے دفاتر  میں بروقت پہنچانا ۔