سیلز ٹیکس
تقسیمِ ہند کے وقت سیلز ٹیکس ایک صوبائی معاملہ تھا۔ یہ پنجاب اور سندھ میں بطور صوبائی ٹیکس نافذ العمل تھا۔ 1948 میں جنرل سیلز ٹیکس ایکٹ، 1948 کے نفاذ کے ذریعے اسے وفاقی معاملہ قرار دیا گیا اور 1952 میں یہ ٹیکس مستقل طور پر مرکزی حکومت کو منتقل کر دیا گیا۔ سیلز ٹیکس ہر فروخت پر 6 پائی فی روپے کے عمومی نرخ پر عائد کیا جاتا تھا۔ تاجربرادری اس نظام کے خلاف احتجاج کیا جس کے نتیجے میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1951 نافذ کیا گیا۔
لائسنس یافتہ مینوفیکچررز اور ہول سیلرز کا ایک نظام قائم کیا گیا جس کے تحت انہیں ایک دوسرے سے سیلز ٹیکس کے بغیر سامان خریدنے اور بغیر لائسنس کےایک ایسا نظام متعارف کرایا گیا جس میں لائسنس یافتہ مینوفیکچررز اور ہول سیلرز کو آپس میں سیلز ٹیکس کے بغیر اشیاء خریدنے کی اجازت دی گئی، اور غیر لائسنس یافتہ تاجروں کو فروخت پر سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوتا تھا۔ درآمدات پر بھی سیلز ٹیکس عائد تھا لیکن لائسنس یافتہ مینوفیکچررز اور ہول سیلرز کو بغیر سیلز ٹیکس کے درآمد کی اجازت تھی۔ بعد میں مقامی طور پر تیار کردہ اور درآمد شدہ اشیاء پر بالترتیب فروخت اور درآمد کے وقت سیلز ٹیکس عائدکردیا گیا۔
1956 کے فنانس آرڈیننس کے تحت، سیلز ٹیکس اُن اشیاء پر وصول کیا جاتا تھا جن پر سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوتی تھی، گویا کہ یہ ایکسائز ڈیوٹی ہی تھی ۔ اپریل 1981 میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1951 میں ترمیم کے ذریعے نان ایکسائز ایبل اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس کی وصولی سنٹرل ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے سپردکر دی گئی۔
1980 کی دہائی کے آخر میں حکومت نے سیلز ٹیکس کی جگہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ٹیکس اور نان-ٹیکس نظام میں موجود خرابیوں اور بگاڑ کو درست کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے سیلز ٹیکس ایکٹ 1951 کو ختم کر کے یکم نومبر 1990 سے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 نافذ کر دیا گیا۔
سیلز ٹیکس کی ذمہ داری
مندرجہ ذیل شعبے سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کے پابند ہیں اور وہ اپنی سپلائیز / خدمات پر سیلز ٹیکس عائد کریں گے:
• مینوفیکچرنگ
• درآمد
• خدمات
• ڈسٹری بیوشن ، ہول سیل اور ریٹیل کے مراحل
پہلے یہ صرف مینوفیکچرنگ اور درآمد پر لاگو تھا، لیکن اب اس کا دائرہ دیگر شعبہ جات تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
سیلز ٹیکس تمام مقامی طور پر تیار کردہ اور درآمد شدہ اشیاء پر عائد ہوتا ہے، سوائے کمپیوٹر سافٹ ویئر، پولٹری فیڈ، ادویات، غیر پراسیس شدہ زرعی اجناس، اور ان اشیاء کے جو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے شیڈول ششم میں شامل ہیں
رجسٹریشن
مندرجہ بالا شعبوں میں ہر وہ شخص جو پاکستان میں قابل ٹیکس سپلائی کرتا ہے، سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت رجسٹر ہونا لازمی ہے۔
تاہم، وہ مینوفیکچررز جن کا قابل ٹیکس ٹرن اوور پچاس لاکھ روپے سے کم ہو اور گزشتہ بارہ ماہ میں ان کا یوٹیلیٹی بل سات لاکھ روپے سے کم ہو، وہ رجسٹریشن اور سیلز ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں۔ اسی طرح، وہ خوردہ فروش جن کا گزشتہ بارہ ماہ کا ٹرن اوور پچاس لاکھ روپے سے کم ہو، مستثنیٰ ہیں۔
سیلز ٹیکس کی شرح سپلائی کی مالیت کا 16% ہے، تاہم کچھ اشیاء پر یہ شرح 18.5% یا 21% بھی ہو سکتی ہے (تفصیل کے لیے دیکھیں
مؤرخہ 11 جون 2008 کو ترمیم شدہ (SRO 537(I)/2008) جیسا کہ SRO 644(I)/2007 )
رجسٹریشن فارم ایف بی آر کے سینٹرل رجسٹریشن آفس یا متعلقہ سیلز ٹیکس کلکٹریٹس / آر ٹی اوز میں جمع کرائے جاتے ہیں، جہاں سے رجسٹریشن نمبر جاری کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں، ٹیکس دہندہ کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے
گوشوارے
قانون کے مطابق، ہر رجسٹرڈ شخص کو ہر ماہ کی 15 تاریخ تک پچھلے مہینے کی فروخت سے متعلق گوشوارہ جمع کرانا ہوتا ہے۔
تمام رجسٹرڈ افراد کو گوشوارے الیکٹرانک طور پر جمع کرانے ہوتے ہیں؛ ادائیگی 15 تاریخ تک کی جا سکتی ہے اور گوشوارہ ایف بی آر کے ای-پورٹل پر 18 تاریخ تک جمع کرایا جا سکتا ہے۔
تفصیلی طریقہ کار سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 2007 کا 04 میں دیا گیا ہے۔
کچھ شعبے ایسے ہیں جنہیں سہ ماہی بنیاد پر گوشوارے جمع کرانے ہوتے ہیں، مثلاً مخصوص الیکٹرونکس اشیاء کے ڈیلرز اور سی این جی ڈیلرز۔
ریکارڈ کی دیکھ بھال
تمام رجسٹرڈ افراد اپنے کاروباری احاطہ پر خرید و فروخت کی گئی اشیاء کا ریکارڈ رکھنے کے پابند ہیں۔ یہ ریکارڈ کم از کم 5 سال تک محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
سیلز ٹیکس کی واپسی (ری فنڈ)
اگر کسی رجسٹرڈ شخص کے ان پٹ ٹیکس کی مقدار آؤٹ پٹ ٹیکس سے زیادہ ہو — مثلاً برآمدات یا زیرو ریٹڈ سپلائیز کے سبب — تو اضافی ان پٹ ٹیکس 45 دنوں کے اندر واپس کیا جاتا ہے۔ اضافی ان پٹ ٹیکس کے دیگر تمام معاملات میں بورڈریفنڈ کا ایک طریقہ کار مقرر کر سکتا ہے۔
اضافی ٹیکس
اگر کوئی رجسٹرڈ شخص مقررہ وقت میں ٹیکس ادا نہ کرے یا ٹیکس کریڈٹ یا ری فنڈ کا ناقابل قبول دعویٰ کرے، یا اپنی سپلائیز پر غلط طور پر زیرو ریٹ کا اطلاق کرتا ہے تو اُس کو درج ذیل شرح کے مطابق اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا:
-
واجب الادا ٹیکس یا اس کے حصے پر 1.5% ماہانہ
-
تاہم، ٹیکس فراڈ کی صورت میں اضافی ٹیکس کی شرح 2% ماہانہ ہوگی۔
بقایا جات
• گوشوارے تاخیر سے جمع کرانا یا بالکل جمع نہ کرانا
• جمع شدہ رقم واجب الادا ٹیکس سے کم ہونا
• آڈٹ یا جانچ پڑتال کے بعد واجب الادا ٹیکس کا تعین اور اس کا برقرار رہنا