اقدامات اور کامیابیاں
1. مقدمات کی پیروی کے نظام (LMS) کا نفاذ :
پہلے اقدام کے طور پر، ایف بی آر کے لیگل وِنگ نے ان لینڈ ریونیو کی تمام فیلڈ فارمیشنز میں مقدمات کی پیروی کا نظام (LMS) نافذ کیا ہے۔ یہ نظام، جو لیگل وِنگ نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL) کے تعاون سے مقامی طور پر تیار کیا ہے، انٹیگریٹڈ ٹیکس مینجمنٹ سسٹم (ITMS) کی ایک ایپلی کیشن ہے۔ ایف بی آر کا منصوبہ ہے کہ اس سسٹم کو پاکستان کسٹمز کے دفاتر تک بھی وسعت دی جائے۔ اس نظام کا مقصد اعلیٰ عدالتوں میں ریفرنسز اور سپریم کورٹ میں سول پیٹیشنز فار لیو ٹو اپیل (CPLAs) کے عمل کو بہتر بنانا اور قانونی چارہ جوئی کی پیش رفت/نتائج کی مؤثر نگرانی کرنا ہے۔ یہ نظام بالآخر ایف بی آر (ہیڈکوارٹرز) میں زیرِ التوا مقدمات کا ہم آہنگ ڈیٹا بیس تیار کرے گا۔ اس سے فیلڈ فارمیشنز میں تعینات انسانی وسائل کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور عدالتوں میں نمائندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔ مزید برآں یہ نظام سینئر مینجمنٹ کو زیر ِ سماعت مقدمات کی فوری نوعیت تک رسائی فراہم کرے گا اور ایف بی آر کے ٹیکس- لیگل سسٹم میں بہتری لائے گا۔
2. تربیت:
مقدمات کی پیروی کے نظام (LMS) پر تربیتی مشقیں ڈائریکٹوریٹ آف ٹریننگ اینڈ ریسرچ لاہور اور اسلام آباد میں اور کراچی کے ریجنل ٹیکس آفس-III اور ملتان میں مکمل کی گئی ہیں۔ یہ تربیت اور عملی مشق کے مشترکہ سیشنز تھے تاکہ LMS سافٹ ویئر میں ڈیٹا انٹری کو سہل بنایا جا سکے۔ اس تربیتی / عملی مشق میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے لارج ٹیکس پئیرز یونٹس اور ریجنل ٹیکس آفسز I، II & III کراچی، I & II لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان، سیالکوٹ، بہاولپور، حیدرآباد، کوئٹہ، ایبٹ آباد، پشاور، سرگودھا اور سکھر کے ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، ان لینڈ ریونیو افسران، آڈیٹرز، انسپکٹرز، اسٹینوز، ڈی بی ایز، کے پی اوز، یو ڈی سیز اور ایل ڈی سیز نے شرکت کی۔ لاہور، کراچی، ملتان اور اسلام آباد میں ہونے والی ان تربیتوں میں مجموعی طور پر 191 افسران / اہلکاروں کو "ماسٹر ٹرینرز" کے طور پر تربیت دی گئی تاکہ وہ ڈیٹا انٹری اور سسٹم میں اپڈیٹ کرنے کا عمل بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔
3. اپیل مینجمنٹ اور پروسیسنگ سسٹم (AMAPS):
اپیل مینجمنٹ اور پروسیسنگ سسٹم (AMAPS) پر سافٹ ویئر جو کہ ITMS کی ایک اور توسیعی ایپلی کیشن ہے، PRAL کی مدد سے تیار کیا گیا ہے اور ملک بھر میں کمشنر ان لینڈ ریونیو (اپیلز) کے دفاتر میں نافذ کیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے، ایف بی آر (ہیڈکوارٹرز) سے کاز لسٹ، اپیل رجسٹرز، ماہانہ کارکردگی رپورٹس اور دیگر تجزیے دیکھے جا سکتے ہیں۔ فیلڈ فارمیشنز کے ذریعے یومیہ کاز لسٹس بھی لنک کر دی گئی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب فیلڈ افسران روزانہ کی بنیاد پر کمشنر ان لینڈ ریونیو (اپیل) کے سامنے زیر ِ سماعت کیسز کی تاریخیں آن لائن دیکھ سکتے ہیں۔
4. لیگل انفورمیٹکس:
ITMS کی ایک اور ایپلی کیشن 'لیگل انفورمیٹکس' ، زیر تکمیل ہے۔ اس نظام کے ذریعے فیلڈ فارمیشنز کو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس، اپیلیٹ ٹربیونلز اور فیڈرل ٹیکس محتسب سے متعلق اہم مقدمات کے فیصلوں تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔
5. فرسٹ اپیلیٹ فورم کی تنظیم ِ نو:
پہلے اپیلیٹ فورم کی تنظیم ِ نو کر دی گئی ہے اور کام کے بوجھ کو معقول بنایا گیا ہے۔ اس تنظیم ِنو کے نتیجے میں، 16 کمشنر ان لینڈ ریونیو (اپیلز) اور 3 کلکٹر کسٹمز (اپیلز) براہ راست ممبر لیگل کو رپورٹ کرتے ہیں۔
6. عدالتوں میں مقدمات کا کامیاب دفاع:
سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائی کورٹس کے مختلف بینچوں کے سامنے سول اپیلز / CPLAs اور رِٹ پٹیشنز میں کئی مقدمات کی مؤثر نمائندگی اور کامیابی سے دفاع کیا گیا ہے۔
7. ایف بی آر فاؤنڈیشن کی رجسٹریشن:
ایف بی آر فاؤنڈیشن کو ایک علیحدہ قانونی ادارے کے طور پر رجسٹر کر دیا گیا ہے تاکہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد کے لیے فلاحی سرگرمیاں انجام دی جا سکیں۔
8. مجوزہ ترامیم:
ٹیکس قوانین میں اصلاحی نوعیت کی ترامیم فنانس بل 2010، 2011 اور 2012 میں شامل کرنے کے لیے تجویز کی گئی ہیں۔
9. ٹاسک فورسز:
کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں تین علاقائی ٹاسک فورسز تشکیل دی گئی ہیں جنہیں عدالتی مقدمات کے جلد تصفیے کا اختیار اور دائرہ ٔ کار دیا گیا ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں لاہور ہائی کورٹ میں خصوصی ٹیکس بینچز قائم کیے گئے ہیں اور سندھ ہائی کورٹ کراچی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمات کی سماعت کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔
10. ایف بی آر- وفاقی ٹیکس محتسب ای-کمیونیکیشن سسٹم:
پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL) کے تعاون سے وفاقی ٹیکس محتسب، ایف بی آر (ہیڈکوارٹرز) اور فیلڈ دفاتر کے درمیان الیکٹرانک مواصلات کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت ہر فیلڈ آفس اور ہیڈکوارٹر کو محفوظ ای میل رسائی فراہم کی گئی ہے تاکہ فیڈرل ٹیکس محتسب کی ہدایات پر عمل درآمد کے وقت کو کم کیا جا سکے۔

