Placeholder image

پاکستان کسٹمز نے 453 ملین روپے مالیت کی ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بنا دی۔

کلکٹریٹ آف کسٹمز اپریزمنٹ (ویسٹ) ایف بی آر کراچی نے SRO-598(I)/2022 کے تحت  بیش قیمت اور زیادہ ٹیرف والی زیادہ تر ممنوعہ اشیاء کو کلیئر کرکے اندرون ملک منتقل کرنے کی  ایک بڑی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔  ایم/ایس ریزگرین انڈسٹریزکے ذریعے متحدہ عرب امارات سے درآمد کردہ ایک کھیپ کو 'پرانے اور استعمال شدہ ٹائر اسکریپ'  بتا کر بھیجا گیا  جسے سسٹم میں ییلو چینل نشان زد کیا گیا تھا ، جب اسے مشکوک جان کر تفصیلی جانچ کے لئے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (KICT) میں بھیجا گیا اور مکمل جانچ پڑتال ہوئی تو  کل 10 میں سے 9کنٹینرز سے مصنوعی زیورات، تیار حالت میں کپڑا ، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، موبائل فون، آٹو پارٹس، فوڈ سپلیمنٹس، سیریلز، کاسمیٹکس، ڈی وی آر اور گھریلو  الیکٹرانکس وغیرہ سمیت متفرق سامان برآمد کیا گیا۔  برآمد شدہ اس ممنوعہ سامان کی لاگت 453 ملین روپے بتائی جارہی ہے جبکہ اس پر عائد ڈیوٹی و دیگر ٹیکسوں کا تخمینہ 400  ملین روپے  کے لگ بھگ ہے۔ یہ ایک بہت غیرمعمولی کیس ہے  جس میں اتنی بڑی تعداد اور مالیت  کے ممنوعہ سامان کی کسٹم کلیئرنس کی غیر قانونی کوشش ناکام بنائی گئی ہے۔  اس معاملے پر ایف آئی آر درج کر کے ایک    شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ 
 
 
چیئرمین ایف بی آر و سیکرٹری ریونیو ڈویژن، جناب عاصم احمد نے کسٹمز اپریزمنٹ ٹیم کےاس کامیاب آپریشن کو سراہتے ہوئے ہر قسم کی اسمگلنگ کی لعنت کے خلاف لڑنے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔  یہ امر قابل ذکر ہے کہ چیئرمین ایف بی آر نے پہلے ہی کسٹمز فیلڈ فارمیشنز کو خصوصی ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ وہ ہوائی اڈوں اور زمینی سرحدوں پر اسمگلنگ کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے اپنی  کڑی نگرانی جاری  رکھیں ۔