ایف بی آر
*** پریس ریلیز ***
پاکستان کسٹمز کے زیر اہتمام تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد ***
پاکستان کسٹمز بڑھتی ہوئی سرحد پار تجارت اور ٹرانزٹ سپلائی چین ، مینوفیکچرنگ کے جغرافیائی پھیلاؤ اور تبدیلیاں لانے والی ٹیکنالوجیز کو اپنانے سے درپیش چیلنجوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ پاکستان کسٹمز کا کردار اب سرحدوں کی روایتی فزیکل چیکنگ سے حکومت کی تجارتی سہولت کاری، علاقائی روابط، بارڈر کنٹرول اور اقتصادی ترقی کی حکمت عملی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کے وژن کے مطابق بین الاقوامی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے پاکستان کسٹمز عالمی بینک کے تعاون سےاپنے بنیادی بزنس پراسسز کو تبدیل کرنے کے سفر پر گامزن ہو چکا ہے تاکہ آپریشنز میں انسانی صوابدید کم سے کم رکھی جا سکے اور یکسانیت لانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاسکے۔ کسٹمز ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ کی تکمیل پر توقع ہے کہ پاکستان کسٹمز کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کے علاوہ پاکستان کسٹمز کے قانونی فریم ورک، تنظیمی ڈھانچے اور آپریشنل ماڈل کو ازسر نو ترتیب دیا جا سکے گا۔ رسک مینجمنٹ اور کلیئرنس کے بعد آڈٹ کی صلاحیت کی اپ گریڈیشن، ٹیکنالوجی کا استعمال اور غیر ضروری کاموں کا خاتمہ کسٹمز کو اپنے وسائل کا رخ زیادہ اہم کاموں کی طرف موڑنے کے قابل بنائے گا۔
وزیر اعظم نے اس پراجیکٹ کو بروقت مکمل کرنے اور اس کی راہ میں روکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک سٹیرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے ۔ ***