ایف بی آر
(پاکستان کسٹمز)
***
پریس ریلیز
***
فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ ایک ڈیجیٹل عمل ہے، اس کا انحصار بندرگاہ پر نہیں۔ ایف بی آر
***
اسلام آباد، 29 اکتوبر 2026ء:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سینٹرل اپریزر یونٹ (CAU) کی اسلام آباد منتقلی کسٹمز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عمل کا اگلا مرحلہ ہے اور یہ فیصلہ حتمی ہے۔
یہ اقدام صوابدیدی اختیارات میں کمی، ٹیکس دہندگان اور ٹیکس حکام کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم سے کم کرنے اور خودکار نظام پر مبنی شفاف تشخیصی فیصلوں کو یقینی بنانے کے لئے اٹھایا جا رہا ہے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ صرف تشخیص کا عمل اسلام آباد منتقل کیا جائے گا، جبکہ دیگر امور متعلقہ کلکٹوریٹ کے دائرۂ اختیار میں ہی رہیں گے۔ موقعہ پر مال کی جانچ پڑتال اور بندرگاہ سے متعلق کارروائیاں کراچی میں جاری رہیں گی، جبکہ تاجر اپنے مسائل کے حل کے لیے کراچی میں متعلقہ کلکٹوریٹس سے رجوع کر سکیں گے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) کی جانب سے کلیئرنس میں تاخیر، مالیت کے تعین سے متعلق تنازعات اور لیبارٹری سے رجوع کیے جانے کے معاملات پر اٹھائے گئے تحفظات کا جواب دیتے ہوئے ایف بی آر نے کہا ہے کہ ایسوسی ایشن کی جانب سے پیش کردہ کارکردگی کے اعداد و شمار زیادہ تر اس نظام کے نفاذ کے ابتدائی مہینوں سے متعلق ہیں اور بعد ازاں ان میں جو بہتری آئی ہے اس کی مکمل عکاسی نہیں ہوتی۔ کسٹمز کلیئرنس کا اوسط دورانیہ 40.2 گھنٹے سے کم ہو کر 20.57 گھنٹے رہ گیا ہے، جبکہ اب 83 فیصد کھیپوں کی کلیئرنس 48 گھنٹوں کے اندر ہو رہی ہے۔ ایف بی آر اصلاحات کے بنیادی مقاصد پر سمجھوتہ کیے بغیر حقیقی عملی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ایف بی آر نے مزید واضح کیا ہے کہ کسٹمز میں مالیت کا تعین بدستور کسٹمز ایکٹ، 1969ء کی دفعہ 25 کے تحت کیا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل تشخیصی نظام اعلان کردہ مالیت میں من مانا اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اور افسران کے لیے لازم ہے کہ وہ مالیت کے تعین کے مقررہ طریقوں پر عمل کریں اور جہاں ضروری ہو، وجوہات کا ریکارڈ مرتب کریں۔ الیکٹرانک دستاویزات، ماہرین سے مشاورت اور ڈیجیٹل رابطہ کاری سے تشخیص کے معیار کو بہتر بنانے اور غیر ضروری ذاتی روابط کو کم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
یہ اصلاحات ایف بی آر کی وسیع تر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا حصہ ہیں، جس میں ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ شامل ہیں۔ یہ اقدامات لین دین کی دستاویز بندی کو مضبوط بناتے، صنعتی پیداوار اور ٹیکس ریکارڈ تک رسائی اور ان کی نگرانی کو بہتر بناتے، اور ٹیکس چوری، معاشی سرگرمیوں کو چھپانے اور غیر منصفانہ مسابقتی طریقوں کی روک تھام میں مدد دیتے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد قواعد و ضوابط کی پابندی کو زیادہ شفاف بنا کر اور ذاتی اثر و رسوخ کے ذریعے ترجیحی سلوک حاصل کرنے کے مواقع کم کرکے قانون کی پابندی کرنے والے کاروباری اداروں کا تحفظ کرنا ہے۔
بین الاقوامی تجربات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی کسٹمز ایڈمنسٹریشن کی جانب منتقلی عوام میں مقبول ہے۔ بھارت کا فیس لیس اسیسمنٹ ماڈل، سنگاپور کا ٹریڈ نیٹ (TradeNet) اور دبئی اسمارٹ کسٹمز اس بات کی مثالیں ہیں کہ ڈیجیٹل نظام شفافیت اور احتساب کو فروغ دیتے ہوئے تجارت میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کا بنیادی اصول اس امر کویقینی بنانا ہے کہ کسٹمز کے فیصلے ذاتی رسائی یا فاصلاتی قربت کے بجائے قانون، شواہد اور مقررہ طریقۂ کار کی بنیاد پر کیے جائیں۔
کلیئرنس کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے ایف بی آر متعدد ٹارگٹڈ اقدامات کرے گا۔ ان میں ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (EFS) اور برآمدات پر مبنی کھیپوں کے زیر التوا معاملات نمٹانے کے لیے خصوصی انتظامات، نیز مجاز اقتصادی آپریٹرز (Authorized Economic Operators) اور قواعد کی پابندی کرنے والے درآمد کنندگان کے لیے گرین چینل کے ذریعے سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔ مجوزہ خدمات کی معینہ مدت کے مطابق تشخیص اور پہلے جائزہ کے لیے 24 گھنٹے، دوسرے جائزہ کے لیے 48 گھنٹے، گراؤنڈنگ کے بعد جانچ پڑتال کے لیے 24 گھنٹے اور لیبارٹری کے نتائج کے لیے 72 گھنٹے مقرر کیے جائیں گے۔ ان اوقات کی پابندی یقینی بنانے کے لیے خودکار طریقۂ کار کے تحت معاملے کو اعلیٰ سطح پر بھیجنے کا نظام بھی معاون ہوگا۔ کسٹمز ایکٹ، 1969ء کی دفعہ 81 کے تحت جہاں قانونی طور پر قابلِ اطلاق ہو، عارضی ریلیز کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
ایف بی آر نے تجارتی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اراکین کو جہاز کی آمد سے قبل گڈز ڈیکلریشنز (Goods Declarations) بروقت جمع کرانے کے بارے میں آگاہ کریں۔
پیشگی ڈیکلریشن جمع کرانے اور آمد سے قبل کارروائی مکمل کرنے کے ذریعے اہل کھیپوں کی تشخیص اور کلیئرنس پہلے کی جا سکتی ہے، جس سے بندرگاہ پر مال کے قیام کا دورانیہ اور غیر ضروری ڈیمرج اخراجات کم ہوں گے۔
ایف بی آر نے اے پی ٹی ایم اے اور دیگر تجارتی تنظیموں کو دعوت دی ہے کہ وہ رپورٹ شدہ تاخیر، مالیت کے تعین سے متعلق تنازعات اور درجہ بندی کی غلطیوں کی جانچ پڑتال اور ان کے حل کے لیے متعلقہ گڈز ڈیکلریشن نمبرز سمیت مخصوص اور قابلِ تصدیق کیسز پیش کریں۔ ایف بی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ کی ساکھ اور شفاف، احتساب اور مؤثر کسٹمز انتظامیہ کے وسیع تر ایجنڈے کو برقرار رکھتے ہوئے عملی مشکلات دور کرنے کے لیے بہتری کے اقدامات کیے جائیں گے۔
***