Placeholder image

تمباکو کے شعبے میں ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی؛ ایک اور فیکٹری سیل کردی گئی۔ ایف بی آر

پاکستان اس وقت سگریٹوں کی غیرقانونی تجارت اور غیر قانونی مینوفیکچرنگ کے سنگین مسئلے کا سامنا کر رہا ہے  جس  کی وجہ سے  قومی خزانے کو سالانہ تقریباً 250 سے 300 ارب روپے تک کا نقصان ہو رہا ہے۔
اس سنگین مسئلے اور اس کے دور رس معاشی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے غیرقانونی سگریٹ کی تجارت کے خاتمے اور ٹیکس قوانین کی  سخت ا نفورسمنٹ   کے لیے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔
وزیراعظم پاکستان کی ان ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے  فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایک جامع اور کثیر سطحی منصوبہ تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ کی تیاری کا خاتمہ، مانیٹرنگ میکانزم کو مضبوط بنانا اور غیر قانونی سپلائی چین کو توڑنا ہے۔ اس کوشش کو تمام اسٹیک ہولڈرز کی بھرپور حمایت حاصل  ہے، خصوصاً پاکستان آرمی نے  انفورسمنٹ  کی کارروائیوں کو موثر بنانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا۔ مربوط حکمت عملی کے تحت، ملک بھر میں گرین لیف تھریشنگ (GLT) یونٹس پر تقریباً 120 رینجرز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ غیرقانونی مینوفیکچرنگ کی روک تھام اور نگرانی میں معاونت فراہم کی جاسکے۔
اس  کے ساتھ ساتھ  ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ایکٹ  1990  کے  سیکشن 40بی اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے سیکشن 45 کے تحت 200 سے زائد مانیٹرز بھی تعینات کیے ہیں  جو پروڈکشن کی نگرانی، سامان کی قانونی ترسیل اور مینوفیکچرنگ یونٹس میں ٹیکس  کمپلائنس  کو یقینی بنا رہے ہیں۔
 
وزیراعظم پاکستان  کی ہدایات اور ایف بی آر کے انفورسمنٹ  منصوبے کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے  ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جینس اینڈ انویسٹی گیشن-ان لینڈ ریونیو پشاور نے ایریا مجسٹریٹ سے وارنٹ حاصل کرنے کے بعد 03.11.2025 کو ضلع مردان کے تھانہ جبہ کے علاقے میں واقع ایک  خفیہ  گودام پر کامیاب  چھاپہ مارا ۔ جس  کے دوران 200 کارٹن نان ڈیوٹی پیڈ / نان ٹی ٹی ایس سگریٹ برآمد ہوئے جن کے برانڈ نام بزنس کلاس، ریڈ اور کراؤن ہیں۔ یہ سگریٹس میسرز انڈس ٹوبیکو کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے رجسٹرڈ برانڈز ہیں۔ اس کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جینس اینڈ انویسٹی گیشن-ان لینڈ ریونیو پشاور نے 21.11.2025 کو ریجنل  ٹیکس  آفس  پشاور کو خلاف ورزی کی رپورٹ ارسال کی۔ اس  رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے  ضابطہ      جاتی تقاضے پورے کرنے اور ضروری منظوری حاصل کرنے کے بعد،29.11.2025 کو انڈس ٹوبیکو کمپنی کی مینوفیکچرنگ مشینری کو فیڈرل ایکسائز رولز 2005 کے رول 28A(6) کے تحت آر ٹی او پشاور کے افسران نے سیل کر دیا۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو  ارسلان علی نے چیف کمشنر  آر ٹی او پشاور کی نگرانی میں انجام دی۔ مزید کارروائیاں فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کی سیکشنز 21، 22، 19(3)، 19(10)، اور 27 کے تحت جاری ہیں۔
تلاشی کے دوران اور بعد میں  ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جینس اینڈ انویسٹی گیشن-ان لینڈ ریونیو پشاور کے افسران اور اہلکاروں کو کمپنی کے ڈائریکٹر/مالک سمیت مسلح افراد کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سخت دباؤ اور مسلح مزاحمت کے باوجود، ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جینس اینڈ انویسٹی گیشن-ان لینڈ ریونیو اور چیف کمشنر-ان لینڈ ریونیو  آر ٹی او پشاور اور ان کی انفورسمنٹ  ٹیم نے کارروائی کامیابی سے مکمل کی اور کسی بھی قسم کے اثر و رسوخ کے آگے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے قانون کی بالادستی اور قومی محصولات کے تحفظ کے لیے ایف بی آر کے غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ کمپنی کے ڈائریکٹرز میں سے ایک شخص  بلال خان  نے مسلح مزاحمت کی جو  ضلع مردان کے ایک بااثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس  کے متعدد افراد خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔
اس سے قبل  29.11.2025 کو ایک اور نمایاں مینوفیکچرر میسرز  سووینئر ٹوبیکو کمپنی کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائی کی گئی تھی، جو نان ڈیوٹی پیڈ / نان ٹی ٹی ایس سگریٹس کی تیاری اور ترسیل میں ملوث پائی گئی۔ اس کمپنی کی مشینری بھی سیل کر دی گئی تھی۔