Placeholder image

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ: منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے ٹیکس کیس ختم ہونے کا انتظار ضروری نہیں

ایف بی آر
٭٭٭٭٭
پریس ریلیز
٭٭٭٭٭
 
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ: منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے ٹیکس کیس ختم ہونے کا انتظار ضروری نہیں
٭٭٭٭٭
 
 
اسلام آباد، 27 ستمبر 2026: لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ منی لانڈرنگ اپنی جگہ ایک الگ جرم ہے۔ اس کی تحقیقات شروع کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ پہلے کسی شخص کا انکم ٹیکس کا معاملہ مکمل طور پر طے ہو جائے۔
 
یہ فیصلہ جسٹس خالد اسحاق اور جسٹس حسن نواز مخدوم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے رٹ پٹیشن نمبر 2928 آف 2026 اور اس سے منسلک درخواستوں میں سنایا۔ ان درخواستوں میں ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو (آئی اینڈ آئی) کے اختیارات اور کارروائیوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے تمام درخواستیں خارج کر دیں۔
 
*منی لانڈرنگ کیا ہے؟*
غیر قانونی طریقے سے کمائی گئی رقم کو اس طرح گھمانا کہ وہ جائز آمدنی لگے، منی لانڈرنگ کہلاتا ہے۔ پاکستان میں اس کے خلاف کارروائی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت ہوتی ہے۔
 
*عدالت نے کیا کہا؟*
* ایف بی آر کے آئی اینڈ آئی ونگ کو اس قانون کے تحت مقدمہ (ایف آئی آر) درج کرنے، تحقیقات کرنے اور عدالت میں کیس چلانے کا پورا اختیار حاصل ہے۔
* منی لانڈرنگ کا مقدمہ اور ٹیکس کا کیس دو الگ معاملات ہیں۔ ایک کے ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر دوسرا آگے بڑھ سکتا ہے۔
* منی لانڈرنگ کا مقدمہ چلانے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جس جرم سے رقم کمائی گئی اس میں پہلے سزا ہو چکی ہو۔
* اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے جسے عام قوانین پر فوقیت حاصل ہے۔ ٹیکس کے جاری مقدمات کو بنیاد بنا کر اس کی کارروائی روکی نہیں جا سکتی۔
* سپریم کورٹ کا تاج انٹرنیشنل کیس صرف سیلز ٹیکس کے تعین اور وصولی سے متعلق تھا۔ اسے منی لانڈرنگ کی کارروائی روکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
* جب بینک کسی مشکوک لین دین کی اطلاع فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو دیتے ہیں اور اس پر کارروائی ہوتی ہے تو یہ سب قانون کے دائرے میں اور مقررہ ضابطوں کے تحت ہوتا ہے۔
* ہائی کورٹ میں رٹ درخواست عام طور پر کسی فوجداری تحقیق کو پہلے سے روکنے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔ رقم کہاں سے آئی اور کیسے منتقل ہوئی، اس کا فیصلہ متعلقہ خصوصی عدالتیں کریں گی۔
 
*آپ کے لیے اس فیصلے کا مطلب*
* اگر آپ اپنی آمدنی ظاہر کرتے ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں تو اس فیصلے سے آپ کے لیے کچھ نہیں بدلتا۔
* یہ فیصلہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کو مضبوط کرتا ہے جو غیر قانونی پیسہ چھپاتے ہیں یا اسے جائز ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
* ہر کارروائی قانونی طریقہ کار اور قانون کی حکمرانی کے مطابق ہی ہوگی۔
 
ایف بی آر نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قانونی ابہام دور ہوا ہے اور منی لانڈرنگ اور مالیاتی جرائم کے خلاف کارروائی مضبوط ہوگی۔
 
یہ کیس ڈائریکٹر جنرل (آئی اینڈ آئی ان لینڈ ریونیو) جناب عقیل احمد صدیقی کی نگرانی میں لڑا گیا۔
٭٭٭٭٭٭