پاکستان کو تمباکو کی غیر قانونی تجارت اور ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے جو قومی معیشت کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور سرکاری محاصل میں بھاری کمی کا سبب بنتی ہیں۔ غیر تیار شدہ تمباکو جو کہ سگریٹ سازی کے لیے بنیادی خام مال ہے،کی بلا روک ٹوک نقل و حرکت، ذخیرہ اندوزی اور استعمال ایک سنگین خطرہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر قابل اطلاق ٹیکسز کی بڑے پیمانے پر چوری ممکن ہوتی ہے۔
اس مسئلے کی سنگینی اور دور رس معاشی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظمِ پاکستان نے تمباکو اور سگریٹ کے شعبے میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف فیصلہ کن کریک ڈاؤن اور خام مال سمیت پوری سپلائی چین میں ٹیکس قوانین کےنفاذ کے واضح اور دوٹوک احکامات جاری کیے ہیں۔
ان احکامات کی تعمیل میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایک جامع اور کثیر الجہتی انفورسمنٹ حکمتِ عملی نافذ کی ہے جس کا مقصد نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ کی تیاری کا خاتمہ، انٹیلی جنس پر مبنی نگرانی کو مضبوط بنانا اور غیر قانونی پیداوار و ترسیل کے نیٹ ورکس کو توڑنا ہے۔ ان اقدامات میں ایف بی آر کو مختلف اسٹیک ہولڈرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی معاونت حاصل ہے تا کہ انفورسمنٹ کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے اور سرکاری محاصل کا تحفظ یقینی ہو۔
وزیراعظمِ پاکستان کی ہدایات اور ایف بی آر کے انفورسمنٹ لائحہ عمل کے مطابق ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) پشاور نے ضلع مردان میں ایک کامیاب انفورسمنٹ کارروائی کی، جس کے نتیجے میں میسرز خیبر ٹوبیکو کمپنی کے گوداموں سے تقریباً 27 لاکھ 50 ہزار کلوگرام خام تمباکو ضبط کیا گیا۔ برآمد ہونے والا تمباکو جو سگریٹ سازی کے لیے بنیادی خام مال ہے، پر ڈیوٹی بھی ادا نہیں کی گئی تھی۔ ضبط شدہ مال پر واجب الادا فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا تخمینہ تقریباً ایک ارب ایک کروڑ روپے ہے۔ میسرز خیبر ٹوبیکو کمپنی سگریٹ کے مشہور برانڈ کسان اور گولڈ اسٹریٹ کلاسک تیار کرتی ہے۔
تمام ضابطہ جاتی تقاضے مکمل کرنے اور ضروری منظوریوں کے حصول کے بعد 12 دسمبر 2025 کو آر ٹی او پشاور کے افسران نے میسرز خیبر ٹوبیکو کمپنی کے گودام سیل کر دیے۔ یہ کارروائی اسسٹنٹ کمشنر اِن لینڈ ریونیو شہروز راشد احمد خان نے چیف کمشنر اِن لینڈ ریونیو، آر ٹی او پشاور کی نگرانی میں انجام دی۔ فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کی دفعات 21، 22، 19(3)، 19(10) اور 27 کے تحت نان ڈیوٹی پیڈ خام تمباکو اور سگریٹس کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینری سیل کر کے مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ابتدائی جائزے کے مطابق اگر یہ مقدار بروقت ضبط نہ کی جاتی اور اسے سگریٹس میں تبدیل کر دیا جاتا تو تقریباً 19 ارب روپے کی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی چوری ہو سکتی تھی، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچتا۔ اس کاروائی کے نتیجے میں نہ صرف بڑے پیمانے پر ریونیو کا نقصان ہونے سے روکا گیا بلکہ غیر قانونی سگریٹ سازی کے ایک بڑے ممکنہ ذریعہ کو بھی ناکام بنایا گیا۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ صرف ایک ہفتہ قبل آر ٹی او پشاور نے ایک اور انفورسمنٹ کارروائی کے دوران میسرز یونیورسل ٹوبیکو کمپنی کی انڈکلیرڈ سگریٹ سازی کی مشینری بھی ضبط کی تھی۔ دونوں اداروں کے مالکان آپس میں رشتہ دار بتائے جاتے ہیں اور علاقے میں سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں-
انتہائی دباؤ اور ناجائز اثرق و رسوخ کے باوجود چیف کمشنر اِن لینڈ ریونیو، آر ٹی او پشاور اور ان کی انفورسمنٹ ٹیم نے یہ کارروائیاں مکمل طور پر قانون کے مطابق اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر انجام دیں۔
انفورسمنٹ کے یہ اقدامات ایف بی آر کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ قانون کی بالادستی، ٹیکس قوانین کی تعمیل، قانونی صنعت و سرکاری محاصل کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کسی بھی قسم کے سیاسی دباؤ یا اثر و رسوخ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔