رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران پاکستان کسٹمز نے ملک بھر کے بین الاقوامی ائر پورٹس پر مجموعی طور پر 234.133 تولہ (2.73 کلوگرام) سونا اور 30,785 تولہ (359 کلوگرام) چاندی ضبط کی۔ ضبط شدہ سونے کی مالیت دس کروڑ سڑ سٹھ لاکھ روپے جبکہ چاندی کی مالیت بیس کروڑ سڑسٹھ لاکھ روپے ہے جس سے مجموعی مالیت تیس کروڑ ساٹھ لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
حالیہ کچھ عرصہ میں چاندی کی اسمگلنگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چاندی کی درآمدات اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ تجارت کے سخت قواعدو ضوابط کے تحت ہوتی ہیں۔ مارکیٹ جائزوں کے مطابق چاندی، جسے کبھی ’’غریب آدمی کا سونا‘‘ کہا جاتا تھا ، کی قیمت میں گزشتہ دس ماہ کے دوران دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ چاندی نے قیمت میں اضافہ کی شرح کے لحاظ سے سونے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ قیمتوں میں اس تیز اضافہ نے ملک میں چاندی اسمگل کرنے کی کوششوں میں اضافہ کیا ہے۔
ایف بی آر اسمگلنگ کی روک تھام اور اس کے منفی اثرات سے قومی معیشت کے تحفظ کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔