Placeholder image

وزیرِ خزانہ کا ایف بی آر ہیڈکوارٹر کا دورہ، ریونیو جمع کرنے کی تاریخی کامیابی پر بورڈ کو خراج تحسین پیش کیا۔

ایف بی آر
٭٭٭٭٭
پریس ریلیز
٭٭٭٭٭
وزیرِ خزانہ کا ایف بی آر ہیڈکوارٹر کا دورہ، ریونیو جمع کرنے  کی  تاریخی  کامیابی پر بورڈ کو خراج تحسین پیش کیا۔
***
وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو  سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو  ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور مالی سال 2025-26 کے لیے   ریونیو کے سالانہ اہدف کامیابی سے حاصل کرنے پر بورڈ کو سراہا۔ انہوں نے اس کامیابی کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جو ایف بی آر اور فیلڈ فارمیشنز کی قیادت اور پختہ عزم اور اصلاحات کے باعث ممکن ہوئی۔
 
اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، ایف بی آر کے بورڈ ممبران، سینئر افسران، چیف کمشنرز اور ملک بھر سے چیف کلیکٹرز نے شرکت کی۔ وزیرِ خزانہ نے پورے مالی سال کے دوران  سخت محنت   کرنے  پر پوری ایف بی آر ٹیم کو  وزیراعظم کی جانب سے مبارکباد  پیش کی ۔
 
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس کامیابی کو پاکستان کے گزشتہ ڈھائی سال کے وسیع تر اصلاحاتی سفر کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جس کے دوران ملک   میں ریونیو کی   وصولیوں میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت نے پاکستان کی معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی شعبے کے بہتر اشاریوں کے ساتھ ساتھ پاکستان نے کم ترین مالیاتی خسارہ اور تاریخ کا سب سے بڑا (Primary Surplus)   بھی حاصل کیا، جو ریونیو  جمع کرنے کی   بہترین  کارکردگی اور مالیاتی انتظام کے باعث ممکن ہوا۔
 
وزیرِ خزانہ نے ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز فارمیشنز کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے نمایاں ٹیرف ریلیف فراہم کرنے کے باوجود ایف بی آر نے ریونیو میں  خاطر خواہ اضافہ حاصل کیا۔ انہوں نے اس بات کو بھی سراہا کہ ایف بی آر نے سال کے دوران 599 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے، جن میں مالی سال کے آخری دن ریکارڈ 13.5 ارب روپے کی ادائیگی بھی شامل تھی۔ انہوں نے اسے کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اہم مظہر قرار دیا۔
 
حکومت کے طویل مدتی اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ جدید ٹیکس انتظامیہ کو صرف ریونیو کی  وصولی پر نہیں بلکہ ٹیکس دہندگان کی سہولت، شفافیت اور عوامی اعتماد پر بھی یکساں توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی حل، زیادہ آٹومیشن، بہتر ٹیکس دہندہ خدمات اور اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے مواقع کم کرنے کے ذریعے ٹیکس کمپلائنس  کو آسان بنانے پر زور دیا۔
 
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں منظور شدہ ایف بی آر آپریٹنگ ماڈل افراد، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات کے ذریعے ادارہ جاتی تبدیلی کو تیز کرے گا جس میں مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل نظام کے استعمال کو مزید وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے ایف بی آر کو پاکستان کے نمایاں عوامی اداروں میں تبدیل کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
 
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے نئے مالی سال کے پہلے دن ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کے دورے اور ادارے کی مسلسل راہنمائی و حوصلہ افرائی پر وزیرِ خزانہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بجٹ کے عمل کے دوران وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر کے درمیان قریبی تعاون کو سراہا اور دونوں اداروں کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا، جنہوں نے پیچیدہ مالیاتی اور ٹیکس پالیسی چیلنجز سے کامیابی سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
چیئرمین نے ایف بی آر میں میرٹ، پیشہ ورانہ معیار اور دیانت داری کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی اور اجلاس کے شرکا ٔ کو جاری جدیدکاری اقدامات سے آگاہ کیا جن میں ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن، جدید کسٹمز سسٹمز، مصنوعی ذہانت پر مبنی حل اور صلاحیت سازی کے پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے ٹیکس دہندگان کے لئے سہولیات بہتر بنانے، کمپلائنس کو بہتر  بنانے اور پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید بنانے کے حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔
 
اجلاس کے اختتام پر وزیرِ خزانہ نے ایک بار پھرایف بی آر کی پوری ٹیم کو شاندار کارکردگی پر مبارکباد دی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون اور اصلاحات کے مؤثر نفاذ کے ذریعے ادارہ پاکستان کی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے شرکاء سے چیئرمین ایف بی آر  راشد محمود لنگڑیال اور پوری ایف بی آر ٹیم کی اجتماعی کاوشوں کے اعتراف میں کھڑے ہو کرخراج تحسین پیش کرنے کے لئے تالیاں بھی بجوائیں۔
٭٭٭٭٭٭