Placeholder image

ریجنل ٹیکس آفس - ا ا کراچی کی غیر قانونی سگریٹ سازی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی۔ غیر قانونی سگریٹ تیار کرنے والی فیکٹری سیل کرکے کروڑوں روپے مالیت کی مشینری، خام مال اور تیار شدہ اسٹاک ضبط کرلیا گیا۔

ایف بی آر
٭٭٭٭٭
پریس ریلیز
٭٭٭٭٭
ریجنل ٹیکس آفس -II کراچی کی غیر قانونی سگریٹ  سازی  کے خلاف بڑے پیمانے پر  کارروائی۔
غیر قانونی سگریٹ  تیار کرنے والی فیکٹری  سیل کرکے  کروڑوں روپے مالیت کی مشینری، خام مال اور تیار شدہ اسٹاک ضبط کرلیا گیا۔
***
کراچی — وزیراعظم پاکستان  ، چیئرمین ایف بی آر اور ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن / چیف کوآرڈینیٹر آئی آر ای این کی جانب سے سگریٹ اور تمباکو مصنوعات کی غیر قانونی تجارت اور تیاری کی روک تھام کے لیے جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں ریجنل ٹیکس آفس-II ، کراچی نے  شہر کے مضافاتی علاقے میں قائم غیر قانونی سگریٹ  تیار کرنے والی ایک فیکٹری  کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر بڑی کارروائی کی۔
 
ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ اسکواڈ، آر ٹی او-II کراچی / ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک (آئی آر ای این) کی ٹیم نے کراچی کے علاقے ملیر میں واقع ایک غیر قانونی سگریٹ  ساز فیکٹری پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران فیکٹری کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ اس کی پلانٹ و مشینری، خام مال اور تیار شدہ اسٹاک ضبط کر لیا گیا۔
 
ضبط شدہ مشینری میں سگریٹ بنانے ، پیکنگ کرنے ، ٹوکن لگانے اور فلٹر والی  مشینیں  ہیوی ڈیوٹی جنریٹرز اور دیگر متعلقہ سامان شامل تھا، جن کی مالیت تقریباً 200 ملین روپے ہے۔ موقع سے تقریباً 700 کلوگرام خام تمباکو بھی برآمد ہوا۔
 
ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا کہ  اس پلانٹ اور مشینری کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً 7 لاکھ سگریٹ اسٹکس تھی، جو سالانہ تقریباً 200 ملین سگریٹ اسٹکس کی پیداواری صلاحیت بنتی ہے۔ چنانچہ    غیر قانونی سگریٹ سازی کی اس  سرگرمی کے باعث قومی خزانے کو سالانہ تقریباً ایک ارب بیس کروڑ روپے کے محصولات کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
 
انفورسمنٹ اسکواڈ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فیکٹری کو سیل کرکے  پلانٹ، مشینری اور اسٹاک ضبط کر لیا۔ بعد ازاں ملوث افراد کے خلاف  خصوصی جج (کسٹمز و ٹیکسیشن)، کراچی کی عدالت میں ایف آئی آر درج کرا کے  فوجداری کارروائی شروع کر دی گئی۔ جبکہ مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق  فیکٹری  میں نصب مکمل پلانٹ اور مشینری کو  کھول کر ضبط شدہ خام مال و تیار شدہ اسٹاک سمیت آر ٹی او-II کراچی کے  دفتر  میں منتقل کر دیا گیا۔
 
یہ کارروائی انفورسمنٹ ٹیم نے  ڈی سی آئی آر باقر علی کی سربراہی میں انجام دی  جبکہ ڈاکٹر اسلم مری کمشنر ان لینڈ ریونیو، آر ٹی او-II کراچی / ریجنل کوآرڈینیٹر آئی آر ای این سندھ و بلوچستان نے اس کارروائی میں معاونت کی اور اس کی نگرانی  چیف کمشنر آر ٹی او-II کراچی ظفر رفیق نے کی ۔غیر قانونی   سگریٹ سازی  اور اس میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری تحقیقات جاری ہیں۔
 
ایف بی آر سرکاری محصولات کا تحفظ  اور قابل اطلاق ٹیکس قوانین کی پابندی کو یقینی بنانے کے لئے  غیر قانونی سگریٹ سازی ، تمباکو   کی  غیر قانونی تجارت اور ٹیکس چوری کے خلاف سخت  انفورسمنٹ کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔