Placeholder image

پاکستان کسٹمز نے پنکھوں کی برآمدی صنعت کا سالوں پرانا مطالبہ پورا کر دیا برآمدی ڈیوٹی کی واپسی پر نظرثانی شدہ نیا ایس آر او جاری کر دیا گیا

برآمدات اور تجارت کے فروغ کے لئے وزیراعظم پاکستان کے وژن اور ہدایات کی روشنی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (کسٹمز ونگ) نے پنکھوں کی صنعت کا دیرینہ مطالبہ پورا  کرتے ہوئے ایس آر او نوٹیفکیشن 859(I)/2020 جاری کر دیا ہے۔ نئے ایس آر او کے تحت ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرح 1.72 فیصد سے بڑھا کر 4.396 فیصد کر دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ پنکھوں کی صنعت کے لئے ٹیکس نظام پر 2009 سے کوئی نظرثانی نہیں کی گئی تھی جس  کے باعث پنکھوں کی برآمدی صنعت جمود کا شکار ہو رہی تھی۔

پاکستان کسٹمز (ایف بی آر) نے وزیراعظم کے وژن "میک اِن پاکستان" کو عملی شکل دینے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں برآمدات کے فروغ اور تجارت میں سہولت کے لئے متعدد تاریخی اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کی بدولت برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گا اور  کارخانہ داروں کو مالی مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ ایف بی آر کے ان اقدامات کی بدولت نہ صرف صنعتی اداروں کی کاروباری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ خطے کے دیگر برآمد کنندگان کے مقابلے میں ان کی مسابقتی حیثیت مضبوط ہو گی۔

دیگر کئی برآمدی شعبوں کے لئے بھی اس طرح کے متعدد اقدامات پر کام جاری ہے جن کا اعلان بہت جلد کر دیا جائے گا۔ ایف بی آر کے  ان اقدامات کی بدولت ادویہ سازی، لیدر گارمنٹس، آلات جراحی، پولٹری، فٹ ویئر سمیت کئی دیگر اہم شعبوں میں برآمدات کو بھرپور فروغ ملے گا۔